علاقائی جہنم
ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے۔ وہ جنگ جو ایران کے خلاف ہمہ گير حملوں اور رہبر معظم انقلاب اسلامی کے قتل سے شروع ہوئی اور دشمن سوچ رہا تھا کہ وہ 48 گھنٹوں میں اپنا مقصد حاصل کر لے گا اور اسلامی جمہوریہ کو ختم کرنے اور اس کے ٹکڑے کرنے کا اس کا گزشتہ 47 سال کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو جائے گا تاہم جو کچھ عملی طور پر سامنے آيا وہ بالکل مختلف تھا۔ ایسے عالم میں جب سپریم کمانڈر اور متعدد سینئیر کمانڈر درجۂ شہادت پر فائز ہو چکے تھے لیکن کمانڈ اور کنٹرول کی زنجیر پہلے سے لگائے گئے اندازوں اور منصوبہ بندیوں کی بنیاد پر نہ اس نے علاقائي سطح پر ایک بھرپور اور ہمہ گیر جنگ شروع کر دی۔
ایسی جنگ جس نے نہ صرف مقبوضہ فلسطین بلکہ خطے میں امریکا کے تمام فوجی اڈوں کو اپنے شعلوں سے جلانا شروع کر دیا اور اس جنگ کے پہلے ہفتے کے آخر میں پورے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ خلیج فارس کے ساحلی ملکوں میں بلکہ اسے بھی آگے تک امریکا کی اکثر فوجی تنصیبات ایران کے میزائلوں اور ڈرونوں کے حملوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔ خطے میں امریکا کی ڈیفنس کی آنکھیں تقریبا نابینا بنا دی گئی ہیں اور اس نابینائی کی وجہ سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ایران کے حملے زیادہ آسانی سے انجام پا رہے ہیں اور حملوں سے پہلے وہاں کے لوگوں کو چوکنا کرنے والے سائرن عملی طور پر بے کار ہو چکے ہیں۔
علاقائی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے، پوری طرح سے قانونی جواز رکھتے ہیں اور کوئی بھی ان حملوں پر نہ تو سوالیہ نشان لگا سکتا ہے اور نہ ہی ان کی مذمت کر سکتا ہے کیونکہ یہ اڈے عملی طور پر حملے اور دفاع کے میدان میں دشمن کے محاذ بن چکے ہیں اور اگر مذکورہ ممالک اپنی فضائی حدود میں ایران کے میزائل اور ڈرون نہیں دیکھنا چاہتے تو انھیں امریکا اور صیہونی حکومت کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت بھی نہیں دینی چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایران نے اپنی شجاعت اور سوجھ بوجھ سے جنگ کا میدان اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔ دشمن چاہتا تھا کہ ابتدائی حملوں کے ساتھ ہی ملک کی سڑکوں پر ہنگامے شروع کروا دے لیکن عوام نے تمام شہروں میں اپنی لگاتار اور ذہانت آمیز موجودگی سے ملک کا دفاع کرنے والے جانبازوں کی حمایت کر کے اس سازش کو ناکام بنا دیا۔ اس کے بعد دشمن نے شمالی عراق میں دہشت گرد گروہوں سے رابطہ کیا، یہاں تک کہ ٹرمپ نے خود ان کے سرغناؤں سے بات کی لیکن یہ دہشت گرد بھی قبل اس کے کہ کچھ کر پاتے ایران کے پیشگي اور مقتدرانہ حملے کے سبب، اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پائے اور ان کا خطرہ بھی دفع کر دیا گيا۔
دنیا کی توانائی کی حیاتی شاہراہ کی حیثیت سے آبنائے ہرمز بھی جنگ کے حالات اور مسلط کردہ بدامنی کے سبب اس وقت پوری طرح سے ایران کی نگرانی اور کنٹرول میں ہے۔ توانائی کی منڈیوں میں اس کنٹرول کے اثرات پوری طرح سے نمایاں ہو گئے ہیں اور دشمن کی جارحیت جاری رہنے کی صورت میں یہ کنٹرول مزید شدت اختیار کر جائے گا۔ یہ بات اتنی زیادہ اہم تھی کہ ٹرمپ نے خود آئل ٹینکرز کے انشورنس، یہاں تک کہ ان کے فوجی ایسکورٹ کا موضوع اٹھایا لیکن وہ بہتر جانتے ہیں اس طرح کی باتیں، زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں ہیں اور زمینی حقائق پر ان کا کوئی اثر نہیں ہے یعنی وہ تیل اور گيس کی بڑھتی قیمتوں کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔
حقیقت یہ ہے کہ دشمن، حقیقت کی سخت دیوار سے ٹکرانے اور سنگین اور مہلک وار کھانے کے بعد اس کی میڈیا سینسرشپ میں کوشاں ہے اور مختلف حیلوں اور نفسیاتی حربوں کا استعمال کر رہا ہے۔ کھوکھلے اور دھمکی آمیز موقف، لڑائی کے میدان میں اپنی طاقت اور پوزیشن کے بارے میں مبالغہ، حکام اور خاص طور پر عوام کے درمیان اختلاف اور انتشار کی کوشش اور سیاسی و عسکری سطح پر داخلی اتحاد کی صورتحال کے بارے میں طرح طرح کے جھوٹ، ان حربوں میں شامل ہیں۔
تاہم حقیقی ایران ایک دوسری ہی چیز ہے۔ ایک طرف یہ وفادار عوام ہیں جو ہر دن اور ہر رات مسجدوں، اہم چوراہوں اور سڑکوں کو اپنی بھرپور موجودگي سے بھر دیتے ہیں اور دوسری طرف مسلح فورسز کے شمشیر بے اماں کی طرح برق آسا میزائل اور ڈرون ہیں جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ دشمن نے اپنی تاریخی خباثت کے ساتھ رہبر انقلاب کا خون بہا دیا لیکن اگر وہ یہ سوچتا ہے کہ ایران کے غضبناک اور اپنے شہید رہبر کے لیے جان ہتھیلی پر لیے ہوئے عوام اور اسی طرح ملک کے رکھوالے اسے چھوڑ دیں گے تو اسے جان لینا چاہیے کہ وہ سخت غلط فہمی میں ہے۔
Mar. 8, 2026

